فیض آباد،16؍اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) فیض آباد کے ایک خاندان کو اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے ملنا کافی مہنگا پڑا۔ مکان تنازعہ میں انصاف دلانے کی اپیل کرتے ہوئے خاندان نے جمعرات کو یوگی سے ملاقات کی تھی لیکن جب خاندان لکھنؤ سے لوٹا تو اس خاندان کے سربراہ کا پتھر سے پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔ ملزم سماجوادی پارٹی کا مقامی لیڈر ہے اور پولیس اب تک اسے گرفتار نہیں کر پائی ہے۔فیض آباد کا اس خاندان کا شہر کے ایک ہسپتال کو لے کر سماج وادی پارٹی کے لیڈر موہن جیسوال سے تنازعہ چل رہا تھا اور اسی سلسلے میں خاندان جمعرات کو یوگی آدتیہ ناتھ سے ملا تھا۔ متاثرہ خاندان کے مطابق جیسے ہی اس بات کی خبر ایس پی لیڈر کو ملی اس نے اوم پرکاش کو پتھر سے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔واردات کے بعد پولیس نے چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے لیکن اہم ملزم موہن جیسوال ابھی تک فرار ہے۔ متاثرہ خاندان کے مطابق سماج وادی پارٹی سے منسلک ہونے کی وجہ سے اکھلیش راج میں پولیس اس کے خلاف کارروائی نہیں کرتی تھی۔جیسوال خاندان کو امید تھی کہ یوگی راج میں انہیں سماج وادی پارٹی کے لیڈر کے غنڈہ گری سے آزادی ملے گی لیکن یہاں تو خاندان کے سربراہ کا ہی قتل ہوگیا۔